چل دئے تم کہاں وصل کا امکاں لے کر
گھر بنتے نہیں ہیں فقط اک مکاں لے
کر
جب راتوں کو نیند نہ آئے اور دل
گھبرائے
تو میری گلی چلے آنا دلِ پریشاں
لے کر
پھر آگئے ہو میری قبر کی خاک
اڑائے
کیا تمہیں چین نہ ملا میری جاں لے
کر
بہاروں میں بھی ہیں بے آبرو شجر
دل کا سودا کیا میں نے خزاں لے کر
مہ خانے میں بھی وہ لطف نہ ملا تو
پھر
آدرش جاؤ گے تم دل کو کہاں لے کر
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں